عمران خان کو حاصل حقوق ہمیں بھی دیئے جائیں، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا عدالت سے رجوع

34

بانی پی ٹی آئی کے نجی اسپتال سےعلاج کرانے اور فیملی سے ملاقات کرانے کے سپریم کورٹ کے آرڈر کے تناظر میں اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں نے نجی اسپتالوں سے علاج اور اہلخانہ سے بات کرانے کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان، اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے جیل حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔

وکیل کا مؤقف ہے کہ درخواست گزار ہیموفیلیا بیماری کا شکار ہے، بیماری کا علاج ابھی تک پاکستان میں صرف شفاء اسپتال میں ہی ممکن ہے۔ بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں نہ ہوتو قیدی کونجی اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ فیصلے نے واضح کردیا علاج کے اخراجات اہلخانہ برداشت کرسکتے ہیں۔

وکیل نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں میڈیکل بورڈ بنانے اور سرکاری اسپتال میں علاج ممکن نہ ہونے پر شفاء اسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی۔

دوسری درخواست میں اویس الطاف کے وکیل ویڈیو لنک پر پیش ہوئے۔ مؤقف دیا کہ اویس الطاف کو بخار اور دل کا مرض ہے، مناسب علاج قیدی کا بنیادی حق ہے، لہٰذا شفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

تیسرے قیدی محمد اسماعیل کے وکیل نے عدالت کو بتایا ان کا مؤکل 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہے، اس کا بھائی دبئی میں ہے اور برسوں سے رابطہ نہیں۔ عدالت سے واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کروانے کی استدعا کی گئی۔ عدالت عالیہ نے تینوں درخواستوں سے متعلق جیل حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں