امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران سے نمٹنے کے لیے امریکا کے پاس متعدد ذرائع موجود ہیں۔ ایران کیخلاف فوجی اور معاشی دونوں کارروائی کی جاسکتی ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی کا بنیادی مقصد ہے، ایران عالمی تجارتی راستے مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، آبنائے ہرمز سے 70 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل روزانہ نکال رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کی جانب سے توانائی بحران پیدا کرنے کی کوشش ناکام بنانے پر کام کر رہے ہیں، تیل اور گیس کی تجارت کا گلا گھونٹنے کی ایرانی کوشش کی قیمت تہران سے وصول کریں گے، ایران شدید دباؤ میں ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے معاشی حساب کا وقت آپہنچا ہے، ایران کو سہارا دینے والے ہر معاشی راستے کو بند کریں گے، ایرانی حکومت کی مالی لائف لائنز کاٹنا ہمارا مقصد ہے۔ ایران سےتعاون کرنے والے ممالک بھی زد میں آئیں گے۔











