عمران خان کی اسپتال منتقلی، نظرثانی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی گئی

32

عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی فیصلے پر دائر نظرثانی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی گئی۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے چیف کمشنراسلام آباد کی نظرثانی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے نظرثانی درخواست پر کل اعتراض عائد کیے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق نظرثانی درخواست کیساتھ پیپر بُکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا گیا، رجسٹرار اعتراضات دور ہونے کے بعد نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔

نظرثانی درخواست

یاد رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔

عدالتی فیصلے پر نظرثانی درخواست چیف کمشنر اسلام آباد نے دائر کی ہے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل رولز میں قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کا طریقہ کار واضح ہے تاہم عدالتی فیصلے میں جیل رولز کو نظر انداز کیا گیا۔ عدالت نے قانون سے ہٹ کر حکم دیا، جو کہ نمایاں قانونی خامی ہے۔

درخواست کے متن کے مطابق آرٹیکل 10 اے منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے، مقدمے میں فریقین کو نوٹس جاری کیےبغیر آرڈر جاری کیا گیا، پٹیشن کے قابل سماعت ہونے کا سنجیدہ قانونی نکتہ بھی موجود تھا، قابل سماعت کا نکتہ مؤخر کرتے ہوئے یکطرفہ عبوری حکم جاری کیا گیا،​کیس کے عبوری مرحلے میں حتمی نوعیت کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

واضح رہے کہ دو روز قبل سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں بانی پی ٹی آئی کو 2 دن میں شفاء ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیاہے۔

حکمنامے کے مطابق شفاء اسپتال کے جنرل فزیشن، جنرل سرجن، آئی اسپیشلسٹ پر مشتمل بورڈ بنایا جائے،بورڈ میں کارڈیالوجسٹ، میڈیسن اسپیشلسٹ کو شامل کیا جائے جبکہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ کوبھی میڈیکل بورڈ کےساتھ منسلک کیا جائے۔

شفاء انٹرنیشنل کے اخراجات بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ ادا کریں گے، آئندہ سماعت تک بانی کےاہل خانہ، پارٹی ارکان صحت کی تفصیلات نہیں بتائیں گے، ہفتے میں ایک دن بانی پی ٹی آئی کی اہلخانہ سے ملاقات کرائی جائے،

یقینی بنایا جائے کہ ہسپتال کے باہر کوئی سیاسی اجتماع نہیں ہو گا، بانی کی میڈیکل رپورٹس کو سیاست کیلئےاستعمال نہیں کیا جائےگا، یقین دہانیوں کی خلاف ورزی ہوئی تو دیا گیا ریلیف واپس ہوسکتا ہے، حکومت کولگےکہ ریلیف کا غلط استعمال ہو رہا ہے تو درخواست دے سکتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور انکے اہلخانہ بھی شکایت کی صورت میں درخواست دے سکتے ہیں۔

عدالت نے حکومت کو ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دیا اور عمران خان کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں