کوئٹہ: پشتونخواءملی عوامی پارٹی کے چیئر مین و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے، پشتون علاقوں کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کریں گے، جبکہ 29، 30 اور 31 اگست کو کوئٹہ میں جرگہ طلب کیا جائے گا۔یہ بات انہوں نے منگل کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی حالات باعث تشویش ہیں، ملک میں برائے نام اسمبلیاں اور سینیٹ موجود ہیں۔ انہوں نے کشمیر میں کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان میں اضلاع کی تقسیم کے معاملے پر جرگہ بلایا جائے گا
جہاں عوام کے سامنے تمام معاملات رکھے جائیں گے، جبکہ ستمبر یا اکتوبر میں پختونخوا وطن کا بھی جرگہ منعقد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ مسلح گروہوں اور ریاست کے درمیان تصادم میں شدت آ چکی ہے، عوام کی جان و مال محفوظ نہیں، مزدوروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا مگر ان واقعات کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ انہوں نے ہنہ اوڑک، زیارت اور منگوچر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ذمہ داروں نے استعفے نہیں دیے جبکہ درجنوں گاڑیاں جلائی جا رہی ہیں۔اپوزیشن لیڈر نے الزام عائد کیا کہ قومی شاہراہوں پر ڈرائیوروں سے 10،10 لاکھ روپے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے جبکہ ایئر لائن کمپنیاں ایک لاکھ روپے تک کرایہ وصول کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری زمینیں دوسروں کو الاٹ کی جا رہی ہیں، حالیہ الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور اپنی زمین کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 5 اگست کو عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہو جائیں گے، اس موقع پر ملک بھر میں تحریک شروع کی جائے گی، جبکہ پشتون علاقوں میں کسی کو قتل کرنے یا املاک جلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پشتون علاقوں کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کریں گے، 29، 30 اور 31 اگست کو کوئٹہ میں جرگہ طلب کیا جائے گا، محمود خان اچکزئی
35













