سرکاری ملازمین کسی قسم کے سیاسی دباؤ سے ہرگز متاثر نہ ہوں، وفاقی آئینی عدالت

34

وفاقی آئینی عدالت نے پولیس افسر کے ترقی کے کیس میں اہم فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے سول سرونٹس کے لیے قائداعظم کی تقریر کی بنیاد پر اصول بیان کردیئے۔

فیصلے کے مطابق سرکاری ملازمین کسی قسم کے سیاسی دباؤ سے ہرگز متاثر نہ ہوں۔ عوام اور ریاست کے خادم کے طور پر فرائض دیانت داری اور بےخوفی سے انجام دیں۔ حکومتیں، وزرائے اعظم اور وزرا آتے جاتے رہتے ہیں۔ حمایت یا مخالفت آپ کا کام نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ سیاست دانوں کو سرکاری ملازمین کے کام میں مداخلت کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ مداخلت سے بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقربا پروری جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ ‏حکومتوں کی وفاداری اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ خدمت کریں۔

عدالت نے سول سرونٹس کو ہدایت کی کہ اپنی سروس کی ساکھ، وقار، عزت اور دیانت داری کو بھی برقرار رکھیں، ترقی لازمی حق نہیں، قواعد کے مطابق صرف منصفانہ زیرغور لانا حق ہے، تین مرتبہ ترقی مؤخر ہونے سے افسر کو خودکار ترقی کا حق حاصل نہیں مل جاتا۔

آئینی عدالت نے پولیس افسر تنویر احمد طاہر کی ترقی کیلئے دائر اپیل خارج کردی، سروس کی مدت کے معاملے پر محکمے یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ فیصلے کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں ہماری مداخلت کا کوئی جواز نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ترقی کے لیے مذکورہ افسر کا مقرر کردہ معیار پر پورا اترنا ضروری ہے، سی ایس بی کے صوابدیدی اختیار میں مداخلت کا جواز نہیں، گریڈ 20 میں ترقی کے لیے 70 نمبر درکار تھے، تنویر طاہر کو 63.56 ملے۔

تحریری فیصلے کے مطابق ترقی مؤخر کرنے کے لیے قانونی جواز اور معقول وجوہات ضروری ہیں، احتساب ریفرنس میں بریت کے بعد ترقی میں رکاوٹ کی بنیاد کا دوبارہ جائزہ ضروری ہے، افسر کی ترقی کے معاملے میں من مانی اور امتیازی سلوک کی اجازت نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں