بلوچستان ہائیکورٹ کا سریاب روڈ فلائی اوور منصوبے پر ازسرنو جائزے کا حکم، جی ایس پی سے پی ٹی سی ایل ایکسچینج تک توسیع کی ہدایت

37

کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ نے سریاب روڈ پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباو¿ کو کم کرنے اور شہریوں کو آمدورفت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مجوزہ فلائی اوور منصوبے کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے جیولوجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی) سے پی ٹی سی ایل ایکسچینج تک تعمیر کرنے کے لیے جامع اور قابلِ عمل تجویز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مالی سال2026-27 کے صوبائی ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں شامل 600 میٹر طویل فلائی اوور کی مجوزہ اسکیم نہ تو قابلِ عمل دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی یہ سریاب روڈ پر ٹریفک کے موجودہ دباو¿ کو مو¿ثر انداز میں کم کرنے کا مقصد پورا کر سکے گی۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست کی سماعت کے دوران یہ احکامات جاری کیے۔ سماعت کے موقع پر متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندے، وکلا اور کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) کے حکام بھی موجود تھے، جبکہ ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر نے سریاب سروس روڈ اور دیگر ترقیاتی کاموں سے متعلق پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ موجودہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں جیولوجیکل سروے آف پاکستان سے منیر احمد مینگل روڈ چوک تک تقریباً 600 میٹر طویل فلائی اوور کی منظوری دی گئی ہے۔
منصوبے کے دائر? کار میں توسیع کے لیے دو مزید تجاویز بھی زیرِ غور ہیں، جن میں پہلی تجویز کے تحت مگسی چوک/کیو ڈی اے آفس انٹرسیکشن سے برما ہوٹل تک، جبکہ دوسری تجویز کے تحت اسی مقام سے پی ٹی سی ایل ایکسچینج تک فلائی اوور تعمیر کرنے کی تجویز شامل ہے۔عدالت نے مجوزہ منصوبے اور پیش کردہ متبادل تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ان تجاویز میں عملی دشواریاں موجود ہیں۔ عدالت کے مطابق مجوزہ متبادل منصوبوں کی صورت میں فلائی اوور کا ابتدائی مقام ہیلپر ہسپتال تک لے جانا پڑے گا، جس سے منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور ماحولیاتی اثرات سے متعلق خدشات بھی پیدا ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ منصوبے کو بہتر منصوبہ بندی کے تحت ازسرنو ڈیزائن کیا جائے۔عدالت نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ فلائی اوور کا آغاز جیولوجیکل سروے آف پاکستان سے اور اختتام پی ٹی سی ایل ایکسچینج پر رکھنے کے لیے ایک جامع، قابلِ عمل اور تکنیکی بنیادوں پر مبنی تجویز تیار کرکے متعلقہ حکام کے سامنے منظوری اور غور کے لیے پیش کی جائے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ کیو ڈی اے آفس/مگسی چوک سے جیولوجیکل سروے آف پاکستان تک سڑک کو فلائی اوور کے بجائے زمینی سطح پر بہتر بنایا جائے، جہاں مناسب ٹی جنکشن کی تعمیر اور سڑک کی توسیع کے ذریعے ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے امکانات موجود ہیں۔ اس مقصد کے لیے دستیاب اراضی کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام کے سامنے باقاعدہ تجویز پیش کی جائے اور اس پر ہونے والی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔سماعت کے دوران سریاب سروس روڈ اور طوفانی پانی کی نکاسی کے منصوبے سے متعلق پیش رفت رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس کے مطابق سریاب سروس روڈ کو تین حصوں میں مکمل کرنے کے لیے مرحلہ وار حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 15,140 میٹر میں سے 14,500 میٹر سڑک پر اسفالٹک بیس کورس کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ 15,140 میٹر میں سے 8,500 میٹر پر اسفالٹک وئیرنگ کورس مکمل ہوا ہے۔ پل کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، جبکہ طوفانی پانی کی نکاسی کے نظام کا تقریباً 98 فیصد کام مکمل ہے۔ کرب اسٹون اور پیورز کی تنصیب کا تقریباً 33 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی ماندہ کام جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر رکاوٹوں کے باعث کام کی تکمیل متاثر ہو رہی ہے۔عدالت نے حکم کی نقل معلومات اور ضروری تعمیل کے لیے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کو بھجوانے کی ہدایت بھی کی۔ متعلقہ حکام کو منصوبے سے متعلق نئی تجاویز پر پیش رفت رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا گیا، جبکہ آئینی درخواست کو دیگر متعلقہ مقدمے، سی پی نمبر 824 آف 2016، کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں