کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ مستونگ اور بالخصوص کھڈکوچہ کے عام عوام کو حکومت تکلیف میں ڈال رہی ہے اور ان کو اپنے گھروں کو چھوڑنے کا کہہ رہی ہے، بلکہ ان کے لیے رہائش کا کوئی انتظام بھی نہیں ہے۔ حکومت کا یہ رویہ، یہ ظلم اور زیادتی ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ رہا ہے۔وزیراعلیٰ شیش محل میں بیٹھ کر بے گناہ بلوچ عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عہدے اور منصب کسی کے ساتھ وفادار نہیں رہتے، ان کو پھر اسی عوام کے ساتھ رہنا ہے
انہوں نے کہا کہ میں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے ذریعے چیف سیکریٹری تک یہ بات پہنچائی ہے کہ حکومت جبری طور پر لوگوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے، جبکہ متبادل طور پر کوئی انتظام نہیں ہے، نہ کوئی خیمہ ہے اور نہ ہی کوئی دیگر سہولیات۔ بلوچستان کے عوام کے ساتھ یہ ناقابلِ برداشت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جو انتہائی غلط ہے۔لہٰذا حکومت پہلے کھڈکوچہ کے عوام کو گھر چھوڑنے پر مجبور کرنے کے بجائے کسی مناسب جگہ پر خیمہ بستی قائم کرے، لوگوں کے کھانے پینے کا انتظام کرے اور اس کے بعد لوگوں کو خیمہ بستی میں منتقل کرے ۔
حکومت کھڈکوچہ کے عوام کو گھر چھوڑنے پر مجبور کرنے کے بجائے پہلے کسی مناسب جگہ پر خیمہ بستی قائم کرے، غفور حیدری
36











