امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر جوہری حملے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا کہ ایران کا پک ایکس ماؤنٹین ممکنہ امریکی جوہری حملے کا ہدف ہوسکتا ہے۔ جہاں مبینہ جوہری تنصیبات 300 فٹ گہری گرینائٹ چٹانوں کے نیچے واقع ہیں۔
ٹکر کارلسن کے مطابق امریکی روایتی ہتھیار ان زیرِ زمین تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو صدر ٹرمپ پر جوہری حملے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں اور ایران کے معاملے پر ان سے روزانہ رابطے میں ہیں۔
ٹکر کارلسن کا دعویٰ ہے کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور سینٹ کام کے سربراہ بریڈ کوپر بھی ایران پر دوبارہ حملوں کے حامی ہیں تاہم صدر ٹرمپ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے میں تاحال ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ کارلسن کے مطابق صدر ٹرمپ 7 نومبر تک اس حوالے سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ممکنہ جوہری حملے سے خلیج فارس میں تابکاری پھیل سکتی ہے۔ پانی کے ذخائر متاثر ہوسکتے ہیں اور عالمی سطح پر جوہری جنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔










