کوئٹہ (آن لائن) سرداران سراوان اور قبائلی معتبرین وعمائدین نواب محمد خان شاہوانی، سردار کمال خان بنگلزئی نے کہا ہے کہ قبائلی سرداروں نے لوگوں کی جانیں اور عزتیں بچائی ہیں۔ اگر کوئی گھناﺅنا فعل کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی اقدام ہوسکتاہے اسمبلی قرار داد لاکر سرداری نظام کو ختم نہیں کیا جاسکتا یہ کام کم عقلی کا ہوسکتا ہے کیونکہ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے نمائندگان کسی نہ کسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں رٹ قائم کرنا سرداروں کا نہیں بلکہ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کرکے فوری اور سستا انصاف فراہم کرےں پھر کسی قبائلی سسٹم کی تبدیلی کے لئے اقدام اٹھائےں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو بنگلزئی ہاﺅس سریاب میں منعقدہ جرگے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر سردار زادہ میر اشرف خان ساتکزئی، سردار محمد عاصم سرپرہ، سید علی محمد شاہ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ نواب محمد خان شاہوانی نے کہا ہے کہ اسمبلی میں سرداری اور نوابی نظام کو ختم کرنے کے حوالے سے قرارداد لائی گئی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے نوابی اور سرداری نظام سینکڑوں سال پرانا نظام ہے قوم کا سربراہ سردار ہے یہ کوئی عہدہ نہیں بلکہ یہ ایک خاندانی نظام ہے جونسل در نسل چلتا آرہا ہے سینکڑوں سالوں کی تاریخ ہے مسائل کو حل اور فوری انصاف فراہم کرنے کے لئے فیصلہ کرتے ہیں تاکہ فریقین کو باہمی رضا مندی سے فیصلے کرکے لڑائی جھگڑوں سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں
اس نظام کو ختم نہیں کیا جاسکتا، سارے سردار ظالم نہیں ہےں سرداروں نے قبائلی فیصلوں کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو مرنے مارنے سے بچایاہے اگر کسی ایک یا دو واقعات میں کوئی ذاتی طور پر سردار یا اس کا کارندہ کسی فعل میں شامل ہو تو اس اقدام سے نظام کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ یہ کسی ایک شخص کا ذاتی فعل ہوسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ مولوی صاحبان ہمارے لئے قابل احترام ہیںاگر کوئی شخص یا حکومتی نمائندہ مولوی یا مقتدرہ کا افسر انفرادی طور پر کوئی اقدام اٹھاتا ہے تو ہم ادارے یا تمام لوگوں کو غلط نہیں کہہ سکتے اگر کوئی ذاتی غلطی کرتاہے تو پورے نظام اور برداری کو غلط نہیں کہا جاسکتاذاتی پسند ناپسند کو سرداری نظام کے کھاتے میں نہیں ڈال سکتے نظام کہیں بھی غلط نہیں ہوسکتا اس کو چلانے والے غلط ہوسکتے ہیںیہ ایک عجب ایشو بتایاجارہاہے کیا آئندہ بلوچی اور براہوئی پر بھی پابندی لگائی جائے گی۔ جو درست عمل نہیں ہے جس نے جو قدم اٹھایا ہے اسکے خلاف اقدام ہوناچاہیے رسمی اور رواجی سردار زندگی اور اپنے لوگوں کی عزت بچاتاہے اور دوسروں کی عزت کااحترام کرتاہے سردار کے تمام فیصلے دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے کئے جاتے ہیں جس میں لوگوں کو ان کی حیثیت اور لڑائی جھگڑوں کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے جرمانے عائد کئے جاتے ہیں تاکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید جھگڑا نہ پھیلے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ڈویژن بنانا کہاں کا انصاف ہے نظام بدلنے والا اس علاقے کا نہیں ہے آئیں ہمارے ساتھ بیٹھیںنواب انگریز کا دیا ہوا ٹائٹل ہے ہر قبیلہ کا اپنا ایک ڈھانچہ ہوتاہے ہمیں ختم کرنا ممکن نہیں ہے سرداری نظام کیا ملک کے مفاد میں نہیں ہے
سرداری نظام کے خاتمے کا جواز بتایاجائے ہم حالات کی بہتری کے حوالے سے رٹ کے لئے قبائلی نظام نہیں چلارہے ہیں۔ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رٹ برقرار رکھ کر لوگوں کو تحفظ ، امن اور زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ موجودہ حالات کی بہتری پر توجہ دیکر پر امن بلوچستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرداری نظام خراب ہے تو ثابت کیاجائے بغیر ثبوت کے کسی چیز کو خراب نہیں کہاجاسکتاہے ۔ سردار کمال خان بنگلزئی نے کہا ہے کہ اسمبلی کی قرار داد سے سرداری یا نوابی نظام ختم نہیںہوسکتا کیونکہ اسمبلی میں بیٹھے لوگ کسی نہ کسی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیںکیونکہ سرداری نظام نے لوگوں کو فوری اور سستا انصاف فراہم کیا ہے اگر اس نظام کو ختم کرنا ہے تو اس کی وجوہات بتائی جائے اور لوگوں کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لئے عدالتی نظام کو مضبوط بنایا جائے بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں ہم قبائلی سردار اور دیگر شخصیات کوئٹہ سے باہر سفر نہیں کرسکتے ایسی صورتحال میں نو گوایریا کیا ہوتا ہے حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن وامان کی بحالی ممکن بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ ایوب خان کے دور میں بھی سرداری نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا ہم اپنے لوگوں اور قوموں کو مستحکم کرکے اس ملک کے جھنڈے کے ساتھ رہتے ہیں بلوچستان ایک قبائلی صوبہ ہے یہاں پر بسنے والے تمام قبائل کے اپنے سردار اور نواب ہیں جوان کے فیصلے ان کی باہمی رضا مندی سے کرتے ہیں ہم نے ہمیشہ انصاف کی فراہمی اور لوگوں کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے اور کرتے رہیں گے کیونکہ لوگ اپنے قبائلی سرداروں اور سفید ریش کی عزت کرتے ہیں جو ان کے بغیر کسی خرچ کے فیصلوں کو کرکے انہیں لڑائی جھگڑوں سے محفوظ رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ بغیر تصدیق کے کسی پر الزام نہیں لگا سکتے آج کی نشست او رمیڈیا کے ذریعے سرداری نظام کے خاتمے کے حوالے سے قرار داد لانے اور اس سسٹم کو ختم کرنے کے حوالے سے اپنے لوگوں کو آگاہی دینا چاہتے ہیں کیونکہ ہم انسانی خدمت کے جذبے سے اپنے لوگوں ، قوم قبیلوں کی مدد اور خدمت کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے 20 سالوں میں جو فیصلے کئے ہیں اور کتنے لوگوں کی جانیں اور عزت بچائی ہیں اس کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے ایک سوال کے جواب میں نواب محمد خان شاہوانی نے کہا کہ ارباب اختیار اور مقتدر حلقے بلوچستان کے حالات کی وجہ سے سنجیدہ ہے تو وہ دی گئی تجاویز پر عمل کرکے حالات کو بہتر بناسکتے ہیں کیونکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اس سے حالات مزید خراب ہوں گے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اس صوبے کے رہنے والے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ کونسے مسائل کو کس طرح حل کرناہے۔
اسمبلی قرار داد لاکر سرداری نظام کو ختم نہیں کیا جاسکتا ، سرداران سراوان
36










