افزودہ یورینیم کا ایک ذرہ بھی ملک سے باہر نہیں جائے گا؛ شرائط ماننے تک امریکا سے بات نہیں ہوگی: ایران

37

ایران نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے افزودہ شدہ نیوکلیئر مواد کو ملک سے باہر منتقل کرنے کی کسی تجویز کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی امریکا کی جانب سے پیشگی اقدامات کے بغیر مذاکرات کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کے تناظر میں تہران کے اہم سفارتی دورے پر موجود پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان، قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی اور پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق، اس دوران ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے پاکستانی آرمی چیف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ایران سے افزودہ نیوکلیئر مواد کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی ملک سے باہر نہیں جائے گا، کیونکہ یہ مواد ایرانی عوام کے لیے ایک بڑا قومی اثاثہ اور قومی سرمایہ ہے جسے صرف ملک کے اندر استعمال کے لیے حاصل کیا گیا ہے۔“

یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رواں ماہ کے آغاز میں بیان دیا تھا کہ آٹھ ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے اور امریکی مطالبات پورے کرنے کے لیے ایران کو اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی۔

امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ایران 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر کے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم تہران ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے فیلڈ مارشل عاصم منیر پر واضح کر دیا ہے کہ جب تک تہران کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا اس وقت تک ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط کو پورا نہیں کرتا۔

ان شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، خام تیل کی برآمدات پر سے تمام اقتصادی پابندیاں اٹھانا اور تمام علاقائی محاذوں پر جنگی کارروائیاں اور دشمنی ختم کرنا شامل ہیں۔

باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران جنگ پسند ملک نہیں ہے لیکن اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور کسی قسم کی دھمکیاں یا فوجی مشقیں ایران کے اسٹریٹجک فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔

باقر قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ امریکا غلط اندازوں اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے باعث خود دلدل میں پھنسا ہے، لہٰذا اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ضروری اقدامات کرنا بھی خود امریکا کی ہی ذمہ داری ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی گزشتہ ثالثی کوششوں کے نتیجے میں جون میں ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، تاہم چند ہفتوں بعد ہی لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے باعث اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے بعد پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا یہ چوتھا سرکاری دورہ ہے، جہاں ان کے ساتھ پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی موجود ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں پائیدار امن کے قیام اور ایران و امریکا کے مابین پیدا ہونے والے بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے ثالث کا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں