کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ کھیل میں بھرتیوں کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور پیسے لینے کے الزامات پر حکومتی و اپوزیشن ارکان کے درمیان گرما گرم بحث جبکہ اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے بارکھان میں زمیندار کے بیٹے کے قتل کا مقدمہ درج کرانے اور سبی سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی 14 سالہ ہندو لڑکی کی بازیابی کے معاملے پر متعلقہ حکام کو اقدامات کی ہدایت کردی۔پیر کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس کے دوران گوادر میں دھماکے میں شہید میجر وجاہت اور نصیرآباد میں شہید ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس میں رکن اسمبلی ڈاکٹر اشوک کمار نے نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سبی سے ہندو برادری کی 14 سالہ لڑکی بندیہ کو اغوا کرکے سندھ کے علاقے بخشہ پور لے جایا گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر اس کا مذہب تبدیل کرکے نکاح کرایا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لڑکی کو بازیاب کرایا جائے کیونکہ ان کے مطابق 14 سالہ لڑکی کا نکاح نہیں ہوسکتا۔اس موقع پر سنجے کمار نے کہا کہ ان کے پاس لڑکی کی عمر 14 سال ہونے کے تمام ثبوت موجود ہیں۔ اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کورٹ میرج ہوئی ہے تو لڑکی کی عمر 18 سال ہونی چاہیے، جبکہ قبائلی طور پر نکاح کرایا گیا ہے تو اس پر کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے وزیر داخلہ کو معاملے کا نوٹس لینے اور سندھ حکومت سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور سندھ حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے بارکھان میں ایک زمیندار کے بیٹے کے بے دردی سے قتل کا معاملہ اٹھاتے ہوئے واقعے کی رپورٹ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر نے ڈی آئی جی کو ہدایت کی کہ واقعے کا مقدمہ درج کرایا جائے۔
اجلاس میں محکمہ کھیل میں بھرتیوں کے معاملے پر بھی ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ پارلیمانی سیکرٹری اسفند یار کاکڑ نے کہا کہ ضلع پشین میں محکمہ کھیل میں باہر کے لوگوں کو ملازمتیں دی گئی ہیں اور بھرتیوں میں بے قاعدگیوں کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین نے کہا کہ محکموں میں بھرتیوں کے دوران کمیٹیوں کے ارکان بھرتیاں کرلیتے ہیں، جبکہ بدنامی منتخب نمائندوں کے حصے میں آتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صوبے کے محکموں میں پیسے لے کر بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے ارکان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ بھرتیاں محکمہ تعلیم میں ہوئی ہیں اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بھرتیوں کے حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں بھرتیوں سے متعلق شکایت سامنے آنے پر وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر سمیت پوری کمیٹی تبدیل کردی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس چھ محکمے ہیں اور اگر کوئی ثابت کردے کہ بھرتیوں میں پیسے لیے گئے ہیں تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔مشیر کھیل مینا مجید نے بھی محکمہ کھیل میں پیسے لے کر بھرتیاں کرنے کے الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ الزام لگانے والے ثابت کریں کہ متعلقہ ڈویڑن یا ضلع سے میرٹ کے خلاف بھرتیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ارکان کی مرضی پر کسی کو بھرتی نہیں کرسکتیں اور اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں تو وہ ایوان میں پیش کرے۔اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ محکمہ کھیل میں بھرتیوں کے معاملے سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا جائے گا اور وہ ایوان میں جواب دیں گے۔
بحث کے دوران اسفند یار کاکڑ نے کہا کہ منتخب ارکان خواتین ارکان سے سوال کرسکتے ہیں۔ اس پر اسپیکر نے کہا کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور مسلم لیگ اس کے ساتھ شامل ہے، اس نوعیت کی باتیں کرکے وزیراعلیٰ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے اس موقف پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ارکان بھی اسی طرح منتخب ہوکر آئی ہیں جس طرح دیگر ارکان، اس لیے منتخب خواتین ارکان کے بارے میں اس انداز میں بات نہیں کی جانی چاہیے۔قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے حکومتی ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مسائل کابینہ یا وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بیٹھ کر حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک گھنٹے سے ایوان میں اسی معاملے پر بحث جاری ہے۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری عبدالمجید بادینی نے نصیرآباد کے علاقے کیٹل فارم میں تقریباً 50 سال سے آباد لوگوں سے زمین چھینے جانے کا معاملہ اٹھایا۔ اسپیکر نے اس حوالے سے کمشنر نصیرآباد سے رپورٹ طلب کرنے کی رولنگ دی۔مولانا ہدایت الرحمان نے کوئٹہ اور تربت کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں گرین بسوں کی فراہمی سے متعلق توجہ دلاو¿ نوٹس پیش کیا، جسے بعد ازاں نمٹا دیا گیا۔نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پاک ایران سرحدی گزرگاہیں بند کیے جانے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے تفتان اور رمدان کے بارڈر کھولنے کا مطالبہ کیا۔اجلاس کے دوران اکاو¿نٹس آف گورنمنٹ اینڈ لوکل کونسلز بلوچستان کی آڈٹ رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی گئی، جسے پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 22 اکتوبر سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
بلوچستان اسمبلی میں بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر گرما گرم بحث بارکھان قتل واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت،سبی سے 14 سالہ ہندو لڑکی کے مبینہ اغوا اور جبری مذہب تبدیلی کا معاملہ بھی اسمبلی میں اٹھا دیا گیا، وزیر داخلہ کا سندھ حکومت سے رابطے کا اعلان، پاک ایران سرحدی گزرگاہیں کھولنے کا مطالبہ
40










