پاکستان سب کا مشترکہ وطن ہے، ترقی، خوشحالی کیلئے ملکر کردار ادا کرنا ہوگا، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

28

کوئٹہ:امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اور الخدمت فاو¿نڈیشن اقلیتوں سمیت معاشرے کے تمام غریب، مستحق اور ضرورت مند افراد کی بلاامتیاز خدمت کر رہے ہیں۔ہم غم سمیٹنے اور خوشیاں بانٹنے والے لوگ ہیں۔ ہماری جدوجہد کا مقصد انسانیت کی خدمت، محروم طبقات کی مدد اور معاشرے میں محبت، اخوت، امن اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔ انسانیت کا رشتہ ہر رشتے سے بلند ہے، مذہب الگ ہو سکتے ہیں لیکن انسانیت، محبت اور احترام کا رشتہ ہم سب کو آپس میں جوڑتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں ہندو برادری کے مندر میں دیوالی کے موقع پر الخدمت فاو¿نڈیشن بلوچستان کی جانب سے منعقدہ تقریب میں تحائف اور راشن تقسیم کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں الخدمت فاو¿نڈیشن بلوچستان کے صدر عبدالمجید سربازی سمیت مسلم، عیسائی اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے سماجی و سیاسی کارکنان نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہندو برادری کے مستحق اور ضرورت مند خاندانوں کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کے لیے خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں سینکڑوں خاندانوں میں راشن اور تحائف تقسیم کیے گئے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اور اس کی ترقی، خوشحالی، امن اور استحکام کے لیے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں تعصب، نفرت، لسانیت اور فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت اور مظلوم و محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنا چاہیے۔
معاشرے میں حقیقی امن اسی وقت قائم ہوگا جب ہر شہری کو بلاامتیاز مذہب و مسلک عزت، تحفظ، انصاف اور بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اسلام نے اقلیتوں کے حقوق، جان و مال کے تحفظ اور مذہبی آزادی کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ ایک اسلامی فلاحی معاشرے میں غیر مسلم شہریوں سمیت ہر فرد کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے آج ملک میں نہ حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی نظام قائم ہے اور نہ ہی ایسا جمہوری نظام جو عام آدمی کو انصاف، تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کرسکے۔ جماعت اسلامی ایسے صالح، پرامن، منصفانہ اور جمہوری معاشرے کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جہاں کسی کے ساتھ مذہب، زبان یا عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ ہو۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے مزید کہا کہ غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے معاشرے کے کمزور طبقات کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ ایسے حالات میں صاحبِ استطاعت افراد، مخیر حضرات اور فلاحی اداروں کو چاہیے کہ وہ ضرورت مند خاندانوں کا سہارا بنیں۔ خدمتِ خلق محض مالی امداد کا نام نہیں بلکہ یہ انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہونے، ان کی عزت نفس کا خیال رکھنے اور انہیں یہ احساس دلانے کا نام ہے کہ وہ معاشرے میں تنہا نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ الخدمت فاو¿نڈیشن رنگ، نسل، زبان اور مذہب کی تفریق کے بغیر دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن سمجھتی ہے۔ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں اور خدمت سے دل جڑتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ معاشرے میں محبت، برداشت، رواداری اور باہمی احترام کی فضا قائم ہو، تاکہ تمام شہری مل کر ملک کو امن و ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں۔ ہمیں غاصبوں، لٹیروں، بدعنوانی، بدامنی اور لاقانونیت کے خلاف متحد ہوکر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔تقریب کے اختتام پر ہندو برادری کے سینکڑوں غریب اور مستحق خاندانوں میں راشن اور تحائف تقسیم کیے گئے۔ ہندو برادری کے نمائندوں اور شرکاءنے اس اقدام کو سراہتے ہوئے جماعت اسلامی اور الخدمت فاو¿نڈیشن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے درمیان محبت، اعتماد، بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں